Raqs e Muhabbat By Kiran Rafique Complete Novel Review & Download

​​”محبت جب نفرت کے لبادے میں چھپ جائے تو زخم دل پر نہیں، روح پر لگتے ہیں۔ ثمامہ خان کی سرد مہری اور انفال کی بے گناہی کے درمیان ایک ایسی خلیج ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ گہری ہوتی جا رہی ہے۔ کیا ثمامہ کا یہ سخت رویہ صرف ایک غلطی کی سزا ہے، یا وہ اپنے اندر چھپی اس محبت سے ڈرتا ہے جسے وہ تسلیم نہیں کرنا چاہتا؟ ایک لڑکی جو اپنے ہی گھر میں اجنبی بنی پھرتی ہے اور ایک شوہر جو انصاف کے نام پر اپنی ہی بیوی پر ظلم ڈھا رہا ہے۔ کیا وقت ان کے درمیان جمی اس برف کو پگھلا سکے گا، یا کسی کا ماضی ان کی محبت کو ہمیشہ کے لیے فنا کر دے گا؟ جاننے کے لیے اس جذباتی اور سنسنی خیز قسط کو مکمل پڑھیں۔”

Summary:

​”Love often hides behind the mask of resentment, and for Thumama Khan and Infal, this mask is tearing them apart. Thumama’s cold demeanor and harsh words are a weapon he uses to punish Infal for a past mistake, while Infal remains trapped in a silent battle of patience and unspoken longing. As Thumama keeps her under strict watch, a new threat looms in the form of Kamran, who is lurking in the shadows. Is Thumama’s hatred truly absolute, or is he terrified of the love he feels for her? Dive into this intense chapter of secrets, betrayal, and a love that struggles to breathe.”

“Welcome to Completenovelzone.com. Our goal is to share the best Urdu novels with you. We don’t just promote stories; we help you find the most emotional and beautiful Urdu romantic novels and social stories. We want to connect you with great writers so you can enjoy the best Urdu reading experience. If you love reading heart-touching stories, you are at the right place to find the best Urdu novels to read online.”

About The Novel:

English
Thumama, who had come straight from the office, found the door to Infal’s room slightly ajar and stepped inside. Seeing her busy getting ready, he locked the door behind him and sat on the bed. Infal was so occupied that she didn’t even notice his arrival. Standing there, undraped and preparing for the event, her natural grace left Thumama momentarily spellbound.
​’By whose permission are you wearing this color?’ Thumama’s cold voice broke the silence. Infal lifted her head, her blue eyes filled with confusion, while Thumama’s green eyes burned with an unsettling intensity.
​’Mom bought this dress for today’s function,’ she replied softly, silently cursing herself for leaving the door unlocked.
​’Change it immediately,’ he commanded. His authoritarian tone left her trembling with suppressed frustration.
​’But what is wrong with this dress?’ she asked, daring to challenge him.
​’Don’t waste time questioning me. Change, or forget about attending today’s function.’ He looked away, struggling to hide the effect her beauty was having on him.
​’I don’t have any other new dress,’ she protested quietly.
​’Wear the white one in your closet, and don’t you ever dare to wear this color again, Mrs.’
​Infal bit her lip in protest, but Thumama walked toward her, stopping just inches away. He leaned in, his voice a lethal whisper against her ear. ‘Those who drain the color from others’ lives have no right to choose colors for themselves. Be grateful you even have a white dress to wear—at least it’s unstained.’
​Infal squeezed her eyes shut to hold back tears.
​’Change, Infal Khan. And try to avoid Musa. I am not the Thumama Khan of four years ago who would overlook your actions.’ He stepped back, his expression void of emotion. As he looked at her—her trembling eyelashes, her bitten, crimson lips—he leaned forward once more, brushing his lips against her eyelids, leaving her breathless.
​’Keep your beauty limited to me, Mrs,’ he whispered, his touch igniting a flush on her cheeks. He walked out, leaving Infal suffocated by his lingering scent and the weight of his words. ‘I hate you, S.K.,’ she whispered, wiping away the tears as she reached for the closet.”

اُردو

شمامہ جو آفس سے سیدھا انفال کے کمرے کی طرف آیا تھا اس کے کمرے کا دروازہ کھلا دیکھ کر
اندر داخل ہوا۔ سامنے ہی انفال کو تیار ہوتے دیکھ کر وہ دروازہ لاک کر کے بیڈ پر بیٹھ گیا تھا۔ انفال
مصروف تھی کہ اس کا داخل ہونا نوٹ ہی نہیں کر سکی تھی۔ بغیر دوپٹے
کے وہ شمامہ خان کو چند لمحوں کے لئے مبہوت کر گئی تھی۔
“کس کی اجازت سے تم یہ کلر پہن رہی ہو؟”
شمامہ کی سرد آواز پر انفال نے اپنا جھکا سر اٹھایا تھا۔ نیلی آنکھوں میں سمجھ نہ سکنے کا تاثر ابھرا تھا
وہیں گرین آنکھیں وحشت سے بھری جا رہی تھیں۔
“وہ ماما نے آج یہ ڈریس لے کر دیا ہے فنکشن کے لئے۔”
دھیمی آواز میں بولتے ہوئے وہ خود کو کوس رہی تھی کہ دروازہ لاک کیوں نہیں کیا تھا۔
“ڈریس چینج کرو فوراً۔”
تحکم بھرے انداز میں مقابل کو تلملانے پر مجبور کر گیا تھا۔ خفگی سے اس نے شمامہ کو دیکھا تھا۔
“لیکن اس ڈریس میں کیا خرابی ہے؟”
“مجھ سے سوال کرنے میں وقت ضائع نہیں کرو اور جا کر کپڑے بدلو ورنہ آج کے فنکشن میں
اپنی شمولیت بھول ہی جاؤ۔”
“لیکن اس ڈریس میں کیا خرابی ہے؟”
“مجھ سے سوال کرنے میں وقت ضائع نہیں کرو اور جا کر کپڑے بدلو ورنہ آج کے فنکشن میں
اپنی شمولیت بھول ہی جاؤ۔”
اس کی خوبصورتی سے نظریں چرا کر وہ سنجیدگی سے بولا تو انفال نے دانت پیستے تھے۔ یہ شخص اس
کی سمجھ سے بالاتر تھا۔
“میرے پاس دوسرا کوئی ڈریس نیا نہیں ہے تو پلیز آج کے لئے۔۔۔۔۔”
“تمہاری الماری میں جو سفید رنگ کا ڈریس ہے اسے پہن لو اور آئندہ غلطی سے بھی یہ رنگ
مت پہننا مسز۔”
انفال کی بات درمیان میں کاٹ کر وہ بولا تھا۔
“مجھے سفید رنگ نہیں پسند۔”
دبی دبی آواز میں جیسے احتجاج کیا گیا تھا۔ شمامہ طنزیہ مسکراہٹ لبوں پر سجائے اس کی جانب بڑھا
تھا۔ انفال سے چند انچ دور رک کر وہ جھکا اور اس کے کان میں اپنے لفظوں سے کاری ضربیں
لگانے لگا تھا۔
“دوسروں کی زندگی کو بے رنگ کرنے والوں کو اپنے لئے رنگوں کا انتخاب نہیں کرنا چاہیے۔
ویسے بھی شکر کرو سفید رنگ تو ہے تمہارے پاس پہننے کے لئے اور مزید یہ کہ اس پر کوئی داغ
نہیں ہے۔”
شمامہ کی بات پر انفال نے سختی سے اپنی آنکھوں کو بند کر کے آنسو روکے تھے۔
“میں معافی۔۔۔”
“چینج کرو انفال خان اور کوشش کرنا کہ موسیٰ سے تمہارا سامنا نہ ہو کیونکہ میں آج سے چار سال
پہلے والا شمامہ خان نہیں ہوں جو تمہاری حرکتوں کو نظر انداز کر دوں گا۔”
بے تاثر انداز میں بولتے ہوئے وہ پیچھے ہٹا اور انفال کو دیکھنے لگا جو سر جھکا گئی تھی۔
نیلی آنکھوں پر گری پلکوں کی کپکپاتی جھالر کو دیکھا۔ لپ اسٹک سے مزین سرخ لب دانتوں تلے
سختی سے پیوست تھے۔ وہ جھکا اور اپنے لبوں کو اس کی پلکوں سے چھوتے ہوئے مقابل کا سانس
روک گیا تھا۔
“اپنی خوبصورتی کو صرف مجھ تک محدود رکھو مسز۔”
اس کے لہجے کی تپش پر اس نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا تھا جو اس کی دھڑکنوں کو منتشر کرتے
ہوئے اس کے گالوں پر سرخیاں پھیلا گیا تھا۔ شمامہ وہاں سے چلا گیا تھا جبکہ انفال نے ناگواری
سے اس انسان کی خوشبو کو اپنے آس پاس محسوس کیا تھا۔
“آئی ہیٹ یو ایس کے۔”
گالوں پر بہتی نمی کو صاف کر کے وہ الماری کی جانب بڑھی تھی کیونکہ فنکشن تو وہ ہر حال میں اٹینڈ کرنا چاہتی تھی۔
۔
۔
۔
​”​”ثمامہ کا انفال پر یہ سخت پہرہ اور اس کا ہر رنگ، ہر ادا پر پابندی لگانا کیا واقعی صرف انتقام کی آگ ہے، یا وہ اپنی ہی محبت کے ہاتھوں قید ہو کر خود کو جھوٹا تسلی دے رہا ہے؟ کیا چار سال پہلے کا کوئی راز ان کے درمیان ایسی دیوار بن چکا ہے جسے توڑنا اب ناممکن ہے، اور کیا موسیٰ کے سامنے آنے سے انفال کی زندگی میں کوئی نیا طوفان برپا ہونے والا ہے؟”
۔
۔

“To read the complete novel for free, click the download button below and enjoy this story full of emotions, suspense, and romance.”

Click Here 👇🏻👇🏻

Author’s Official Page/Support

“اگر آپ کو یہ ناول پسند آیا، تو براہِ کرم مصنف کی محنت کی حوصلہ افزائی کے لیے ان کے آفیشل پیج کو ضرور وزٹ کریں:

KIRAN RAFIQUE WRITES

Note:

“This file is provided for promotional purposes only. The original copyright belongs to the respective author. We highly encourage our readers to support the writers by following their official platforms.”

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top