
محبت کی دہلیز پر جب کوئی اپنا ہی خون کا پیاسا ہو جائے، جب وفا کے بدلے صرف تذلیل ملے اور جب گھر چار دیواری کے
بجائے قید خانہ بن جائے، تب نوال جیسی عورتیں کہاں جاتی ہیں؟ یہ ناول صرف ایک کہانی نہیں، بلکہ ان ہزاروں خامو سسکیوں کی آواز ہے جو محبت کے نام پر توڑی جانے والی خواتین کے دلوں سے نکلتی ہیں۔ فراز جیسے خود غرض اور ظالم کردار اور نوال جیسے ٹوٹے ہوئے وجود کے درمیان کا یہ سفر آپ کو جھنجھوڑ کر رکھ دے گا۔ کیا نوال ہمیشہ ایسے ہی اپنے آنسوؤں کو دستانوں میں چھپاتی رہے گی؟ کیا محبت کا انجام صرف خون آلود کلائیاں اور شکستہ دل ہی ہوتا ہے؟ یہ ناول آپ کو زندگی کے ان تاریک پہلوؤں سے متعارف کروائے گا جہاں سے نکلنے کا راستہ صرف ہمت اور صبر سے گزرتا ہے۔
Summary
A poignant tale of a woman trapped in an abusive marriage, finding her strength amidst betrayal. A must-read for fans of emotional drama.”
“Welcome to Completenovelzone.com. Our goal is to share the best Urdu novels with you. We don’t just promote stories; we help you find the most emotional and beautiful Urdu romantic novels and social stories. We want to connect you with great writers so you can enjoy the best Urdu reading experience. If you love reading heart-touching stories, you are at the right place to find the best Urdu novels to read online.”
About The Novel:
English
“Hello, Miss Nawal! Where have you been hiding for so many days?”
Nawal was about to turn around, but when she recognized the cheerful voice, she stiffened. She was very tired of this man. Today, she finally lost her temper.
“Mohammad, I have told you 101 times that I am not interested in talking to you. Why do you feel it is your duty to talk to me? You keep bothering me in every class.”
“You are amazing! You already gave your consent. You said yes yourself,” Mohammad replied.
“Oh, really? When and what yes?”
Mohammad looked at Nawal’s reddening nose, which only made her angrier.
“You forgot? When I asked if you would be my friend, you were silent. In the East, a girl’s silence means yes.”
“If you used your eyes, you would know my silence didn’t mean yes. I don’t want to talk to you, so how can we be friends?”
“This is the first and last time I am telling you: mind your own business. Give me my basket and go your own way!”
“Fine, if not a friend, you are my Urdu teacher. As a student, I can help you. By the way, what have you kept in this heavy basket?”
He ignored her outstretched hand and walked ahead.
Nawal stomped her feet in anger and walked past the community center gate. Mohammad had friends everywhere, from the receptionist to the janitor. When he reached the class, the baking expert, Mrs. Margaret, had already divided the class into pairs to bake an almond cake. Everyone was busy, except Nawal.
“Please, put me in another team. I will not be Mohammad’s partner,” Nawal said.
“Why?” asked 50-year-old Margaret.
“Because he doesn’t pay attention in class. He will make me fail too.”
“Miss Nawal, consider this your punishment for being absent all week. Now, get to work!”
Nawal went back to her counter, looking at Mohammad. With his thick glasses, his eyes looked too big. Mohammad put her basket on the counter.
“I didn’t know you disliked me so much,” he said.
Nawal ignored him, but he continued, “I have been used to people’s behavior since childhood. It hurts when someone makes me feel like I am not a ‘normal’ human.”
Nawal stopped. She looked at him closely—his worn-out jeans, his Mickey Mouse sweater, and his big, expressive eyes. He didn’t look like a “bad” person.
“I didn’t mean that,” Nawal said, her voice softening. “You seem like a sensible person, but you talk too much.”
Mohammad smiled. “I started speaking very late in childhood, so now I talk a lot out of happiness. My relatives even told my parents I was mute.”
Nawal smiled uncontrollably. “Mohammad, shall we bake the cake? We are falling behind.”
“We will never fail,” he said confidently. “I can mix the eggs and butter very fast.”
They finished just in time. The kitchen counter was a mess—flour, sugar, and almond shells were everywhere. When Mrs. Margaret and her friend came to taste the cakes, everyone else’s cake was simple and pretty. But theirs was different. It had a whole garden and a poultry farm made on top of it. The class laughed, but the cake tasted the best.
“See? Mr. Muscles did it!” Mohammad joked.
“Don’t get too excited. I measured all the ingredients!” Nawal replied.
Later, walking home in the dark, Nawal felt sad again. She put on her headphones, listening to a sad song. Tears started rolling down her cheeks.
Suddenly, her phone rang. It was an unknown number.
“Nawal Zahra,” a deep, calm voice said.
“Who is this?” she asked.
“Remember one thing, Nawal: from today, you will not cry thinking you have no one in this world.”
Nawal was shocked. “Who are you?”
“Look at the letterbox a few steps ahead of you,” the voice said.
Nawal looked. There was an envelope there. She was scared. “How do you know my name? Can you see me?”
The voice ignored her. “You live on the second floor of 15 Linkside Road. If you don’t take the envelope, I will mail it to you.”
The line went dead.
Nawal rushed to the letterbox and grabbed the envelope. She ran all the way to her flat, terrified. Inside the envelope were many photos of her. She was shaking with fear. She unlocked her door and rushed inside, but as soon as she entered, she felt someone else was already in the flat. The hall was dark, but the TV was on in the sitting room.
اُردو
”ہیلو مس نوال اتنے دنوں سے آپ کہاں غائب تھیں؟۔۔۔“
ابھی وہ چونک کر پلٹنے ہی والی تھی۔ کہ مگر خوش لہجہ پہچان کر گردن وہیں اکڑ گئی۔ اس آدمی سے وہ سخت عاجز تھی۔ آج تو پھٹ ہی پڑی۔
”محمد میں تمہیں ایک سو ایک دفعہ یہ تاثر دے چکی ہوں۔ میں تم سے بات کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی ہوں۔ تو پھر تم مجھے مخاطب کرنا اپنا فرض کیوں سمجھتے ہو؟۔۔۔ آتے جاتے کلاسوں میں مسلسل سر کھاتے ہو۔“
”کمال کرتی ہیں آپ۔۔۔!! آپ نے خود ہی تو رضا مندی دی تھی۔ اپنی مرضی سے ہاں کہی تھی۔“
”اوہ پائی کونسی رضا مندی کیسی ہاں؟۔۔۔“
محمد کی نظریں نوال کی سُرخ ہوتی ناک پر تھیں۔ جنہیں محسوس کر کے نوال کو اور غصہ آیا۔
”بھول بھی گئی ہیں۔ جب میں نے آپ سے پوچھا تھا۔ کیا میری دوست بنیں گی۔ تو جواب میں آپ خاموش رہی تھیں۔ اب مشرق میں تو لڑکیوں کی خاموشی کا مطلب ہاں ہی ہوتا ہے۔“
”اگر تم اپنی آنکھوں کا استعمال بھی کر لیتے تو جان جاتے۔ میری خاموشی میں ہاں نہیں نہ تھی۔ کیونکہ میں تم سے بات ہی نہیں کرنا چاہتی تو دوستی کیسی؟۔۔۔“
”اب پہلی اور آخری مرتبہ بتا رہی ہوں۔ اپنے کام سے کام رکھا کرو۔ ادھر کرو میری باسکٹ اور شرافت سے اپنا راستہ ناپو۔۔۔“
”چلیں دوست نہ سہی میری اردو کی استانی تو ہیں ہی ناں۔ تو شاگرد ہونے کی حیثیت سے میں آپ کی مدد کر ہی سکتا ہوں۔ ویسے اتنی بھاری باسکٹ میں کیا کچھ رکھ کر لائی ہیں۔؟۔۔۔“
وہ نوال کا بڑھا ہوا ہاتھ نظر انداز کرتا دو چار قدم آگے بڑھ گیا۔
غصے سے اُس کو گھورتے ہوئے نوال نے پیر پٹھے اور لمبے لمبے ڈگ بھرتی اُس سے پہلے کمیونٹی سینٹر کا گیٹ پار کر گئی۔
محمد کی وہاں پر ریسیپشنسٹ سے لیکر جینیٹر تک سے دوستی تھی۔ ہر کلاس کے استاد اور طالب علموں سے واقفیت بنائی ہوئی تھی۔ سب سے ہیلو ہائے کرتا جب وہ کلاس میں پہنچا تو اُن کی بیکنگ ایکسپرٹ مسز مارگریٹ پوری کلاس کو دو دو لوگوں کے گروپ میں تقسیم کر کے آلمنڈ کیک بنانے کا ٹاسک دے چکی تھیں۔
باقی کی ساری کلاس تو اپنے کام میں مصروف ہو گئی تھی۔ بس نوال کھڑی تھی۔ جسے مسز مارگریٹ کے فیصلے پر اعتراض تھا۔
”آپ پلیز میرے ساتھ کسی اور کی ٹیم بنا دیں۔ میں ہرگز بھی محمد کی پارٹنر نہیں بنوں گی۔“
”کیوں؟۔۔۔“
پچاس سالہ مارگریٹ نے نا سمجھی سے پوچھا۔
”کیونکہ وہ کسی بھی کلاس میں سیکھنے کی طرف توجہ دیتا نہیں ہے۔ اپنے ساتھ ساتھ وہ مجھے بھی مفت میں فیل کروائے گا۔“
”مس نوال پورا ہفتہ آف رہنے کے بعد یہ اپنی سزا ہی سمجھو۔ چلو اب شاباش اپنا کام شروع کرو۔ تم لوگ پیچھے رہ گئے ہو۔“
مارگریٹ سے مایوس ہو کر نوال واپس اپنے کاؤنٹر پر آئی۔ ایک نظر محمد کو گھورا۔۔
کیمپ کے نیچے کالی موٹے عدسوں والی عینک میں محمد کی آنکھیں ضرورت سے زیادہ بڑی نظر آتی تھیں۔
مارگریٹ نے اپنی ہنسی چھپائی۔
محمد نے اُس کی باسکٹ لا کر کاؤنٹر کے اوپر رکھ دی۔
”ویسے مجھے اندازہ نہیں تھا۔ آپ مجھے اس قدر نا پسند کرتی ہیں۔۔۔“
محمد کی آواز کو نظر انداز کرتی وہ کاؤنٹر کے درازوں میں سے مطلوبہ چیزیں نکالتی رہی۔
”میں تو بچپن سے ہی لوگوں کے رو رویوں کا عادی ہوں۔ پھر جب مجھے کوئی یہ احساس دلواتا ہے۔ کہ میں ایک مکمل اور نارمل انسان نہیں ہوں۔ تو بہت دُکھ ہوتا ہے۔“
اب کی بار وہ ٹھٹھک گئی۔ ہاتھ میں پکڑا ہوا باؤل ایک طرف رکھ کر پیچھے مُڑی۔
تاثرات یکسر بدل چکے تھے۔ ابنارمیلٹی ڈھونڈنے کی نیت سے اُس نے محمد کو سر تا پا دیکھا۔ گھسی ہوئی جینز، مکی ماؤس والا سرخ اونی سوئیٹر۔۔۔ پیروں میں بھاری بوٹ، کلین شیو چہرے پر ساری توجہ آنکھیں گھیر لیتی تھیں۔ چوڑے شانے دراز قامت پر اپنی باتوں سے وہ پورا بنا بنایا گدھا لگتا تھا۔
”میرا تو ایسا کوئی مقصد نہیں تھا۔ سچی بات تو یہ ہے۔ مجھے تم اچھے خاصے معقول انسان ہی لگتے ہو۔ بس سر بڑا کھاتے ہو۔ اور باتیں بھی کبھی کبھار ہوس ہی کرتے ہو۔“
نوال کے چہرے پر ہمہ وقت رہنے والے سرد تاثرات میں کمی ہوتی دیکھ کر محمد کی ہمت بندھی۔
”اصل میں بچپن میں بہت دیر سے میں نے باتیں کرنا شروع کی تھیں۔ اُسی خوشی میں کبھی کبھی بہت زیادہ بول جاتا ہوں۔ ورنہ یقین کریں سارے رشتے دار میرے والدین کو مبارک دیگر گئے۔ کہ بیٹا تو گونگا ہے۔“
نوال کے ہونٹوں پر بے اختیار مسکراہٹ دوڑ گئی۔
”محمد کیا خیال ہے اب کیک بنائیں؟ سارے لوگ اتنی سپیڈ سے آگے نکل گئے ہیں۔ ہم لوگ پکے فیل ہونے والے ہیں۔“
”ہم لوگ کبھی فیل نہیں ہونگے۔“
قطعی انداز میں کہتے ہوئے محمد کے لہجے میں ایسا کچھ ضرور تھا۔ جس نے نوال کو اُس کی طرف دیکھنے پر مجبور کر دیا۔ گڑبڑا کر محمد نے کہا۔
”میں بہت تیزی سے انڈے اور مکھن مکس کر سکتا ہوں۔ چینی کو بھی دو منٹوں میں یک جان کر دوں گا۔ جیت ہماری ہی ہوگی۔“
”اچھا دیکھتے ہیں۔ آثار تو ہار کے ہی ہیں۔“
وہ ملانے والے سارے اجزاء اُس کے سامنے رکھتی گئی۔ جنہیں وہ اپنے کہنے کے مطابق منٹوں میں تیار کر کے اُسے پیش کرتا گیا۔ یہ الگ بات کہ اُس کا سوئیٹر، ہاتھ، چہرہ کاؤنٹر، فرش، ہر طرف میدہ ہی میدہ نظر آرہا تھا۔
پھر بھی دونوں پورے وقت پر کیک اوون میں رکھ چکے تھے۔ اُس طرف سے تھوڑی تسلی ہونے کے بعد رخ کاؤنٹر کی طرف کیا تو گہری سانس بھر کر رہ گئی۔ انڈوں کے چھلکے، بادام کے چورے والے خالی پیکٹ، آٹا، چینی۔۔۔ یہاں سے وہاں ہر طرف بکھرے تھے۔ اور عین کاؤنٹر کے اوپر بیکنگ پاؤڈر کا جار الٹا پڑا تھا۔
مسز مارگریٹ نے دوسرے سبھی کاؤنٹرز کی جانب اشارہ کر کے خاموشی سے اُن کو شرم دلوائی۔
نوال نے محمد کو دیکھا جس نے سپیچ اور سپرے دیکھ کر پوز مارا۔
جب تک کیک تیار ہوا۔ دونوں صفائی ہی کر پائے تھے۔ جبکہ باقی ٹیمیں اپنی اپنی آئیسنگ تیار کر رہی تھی۔
مسز مارگریٹ کے ساتھ فجر میں اُن کی ایک دوست بھی شامل تھیں۔ جب وہ ہاتھ میں فورک اور پیپر پلیٹ لیکر اُس لمبی میز کے قریب آئیں، جس پر سبھی نے اپنے تیار کردہ کیک لائن سے رکھے تھے۔ سارے کیک سادہ مگر خوبصورت انداز میں سجائے گئے تھے۔ سوائے ایک کیک کے۔ جو سائز میں سب سے بڑا تھا۔ سیدھی سادی ڈیکوریشن کی بجائے کیک کے اوپر پورا باغیچہ بنا ہوا تھا۔ ساتھ میں ایک طرف پولٹری فارم نظر آ رہا تھا۔ نیلے پیلے ہرے رنگوں کا امتزاج، ہجر کے علاوہ ساری کلاس اُس کیک کی باری آنے پر قہقہوں میں نہائی تھی۔ مگر جس کا وہ کارنامہ تھا۔ وہ یوں سنجیدہ شکل بنائے کھڑا تھا۔ جیسے زندگی موت کا فیصلہ ہو۔ نوال کو ہمدردی مہنگی پڑی تھی۔ وہ صرف مُسکرا کر بولی تھی۔ اور محمد نے کیک کے اوپر بھی لکھ دیا تھا۔ ”دوستی زندہ باد، آخر جیت دوستی کی ہی ہوئی۔“ کیونکہ دیکھنے میں وہ کیک جتنا اؤٹ پٹانگ تھا۔ مزے میں سب سے اچھا بنا ہوا تھا۔
محمد نے شوخ نظروں سے اُس کو دیکھتے ہوئے جتایا۔
”دیکھا پھر مسٹر مسلز کا کمال۔۔۔“
”زیادہ نہ ہو تم سارے اجزاء کی پیمائش تو میں نے ہی کی تھی۔ ورنہ دیکھتی تم کیسے جیتتے۔۔۔“
”یعنی سارا کریڈٹ آپ لینا چاہتی ہیں۔“
”نہیں بس اگلی دفعہ میں مکسنگ کرونگی۔ اور تم پیمائش کروگے۔“
”منظور ہے۔ مگر یاد رکھنا میں آپ کو ہرا دینا ہے۔“
بعد میں سارے کیک ہال میں رکھ کر سارے ممبرز کو دعوت دی گئی۔ چائے اور کافی کے ساتھ گپوں کے دوران سارے کیک چٹ کٹ گئے تھے۔
جس وقت وہ واپسی کے راہ پر گامزن ہوئی۔ اندھیرا پھیل چکا تھا۔ پارک کے ساتھ ساتھ بنے جنگل کو تھامے وہ قدم بڑھا رہی تھی۔ ہنسی کا خول اتر چکا تھا۔ گہری اداسی نے ایک دفعہ پھر اپنی آغوش میں لے لیا۔ جیب میں رکھے فون پہ میوزک لگا کر ہیڈسیٹ کانوں میں ٹھونسا۔
کوئی اپنا نہیں غم کے مارے ہیں ہم
آپ کے در پہ فریاد لائے ہیں ہم
ہوگا کرم ورنہ چوکھٹ پہ ہم
آپ کا نام لے کر مر جائیں گے۔۔۔
تاجدارِ حرم ہوگا کرم
سنسان فٹ پاتھ پر چلتے ہوئے۔ اُسے پتا بھی نہ چلا۔ نہ جانے کب آنکھوں سے پانی نکل آیا۔
چہرے پر پھیلنے والی نمی کو دستانوں میں جذب کر کے منہ اور ناک اے بھاپ نکالتی وہ برف پر پیروں کے نشان چھوڑتی ہوئی اکیلی ہی جا رہی تھی۔ بس اکا دُکا گاڑیاں آ رہی تھیں۔
موبائل کی بیل ہوئی۔ نمبر نظر نہیں آ رہا تھا۔ مگر کچھ سوچتے ہوئے اُس نے کال اٹھا لی۔ پاکستان سے کال ہو۔
”نوال زہرہ۔۔۔“
دوسری جانب مدھم مگر بھاری آواز میں تصدیق نہیں کی گئی تھی۔ بلکہ بڑے یقین سے اُس کا نام لیا گیا تھا۔
”کون؟۔۔۔“
دوسری جانب اُس کے سوال کو نظر انداز کر دیا گیا۔
”ایک بات ذہن نشین کر لو نوال زہرہ کے آج کے بعد تم یہ سوچ کر آنسو نہیں بہانے ہیں۔ کہ دنیا میں تمہارا اپنا کوئی نہیں ہے۔“
(ابھی وہ یہی سوچ کر رو رہی تھی)۔۔۔ یہ کون تھا؟ جس کو اُس کی سوچ تک رسائی تھی۔
”کون؟۔۔۔“
”تمہارے سامنے چند قدم کی دوری پر لیٹر باکس نظر آ رہا ہے۔“
میکانکی انداز میں اُس نے اپنے سامنے دیکھا۔ سُرخ لیٹر باکس چند قدم کے فاصلے پر ہی تھا۔ اب وہ ڈر گئی تھی۔ اپنے چاروں اور نظر دوڑائی۔۔۔
”لیٹر باکس پر تمہارے لیے ایک لفافہ رکھا ہوا ہے۔ وہ اٹھا لو۔۔۔“
”تم کون ہو؟ میرا نام کیسے جانتے ہو؟ میں بھلا کیوں کوئی لفافہ اٹھاؤں؟۔۔۔ تمہیں اگر یہ علم ہے کہ لیٹر باکس مجھ سے تھوڑا دور ہے۔ تو یقیناً تم اس وقت مجھے دیکھ رہے ہو۔“
دوسری جانب تمام سوالوں کے جواب میں خاموشی رہی۔
”پندرہ لنک سائیڈ روڈ پر تمہارا فلیٹ دوسری منزل پر ہے۔ اگر لفافہ نہیں اٹھاؤ گی تو میں پوسٹ کر دوں گا۔“
ساتھ ہی لائن بے جان ہو گئی۔
اُس کے قدم تیزی سے آگے بڑھے۔ وہ دیکھ لینا چاہتی تھی۔ لفافے میں ایسا کیا ہے۔ یا شائد فون کرنے والے کا کوئی سراغ ہی مل جائے۔
سٹریٹ لیمپ کی روشنی میں لفافہ چاک کرنے سے پہلے اُس کو کئی خیال آئے۔ ہو سکتا ہے۔ کوئی دھماکہ خیز مواد ہو۔ ادھر میں پکڑو ادھر کوئی بٹن دبا دے۔ پر ایسا کام فراز کے علاوہ کون کرے گا؟۔ چلو اچھا ہے مر جاؤں اُس کی بھی جان چھوٹ جائے گی۔
مگر جو چیز اُس کے سامنے آئی وہ رونگٹے کھڑے کرنے کو کافی ثابت ہوئی۔ ایک بعد دوسری تیسری چوتھی اور نہ جانے کتنی فور اے سائز کی تصویریں تھیں۔ مدہم روشنی میں بھی وہ ہر تصویر میں نظر آنے والے چہرے کو پہچان سکتی تھی۔
سارے جسم سے جان نکلتی ہوئی محسوس ہوئی۔ وحشت زدہ ہو کر اُس نے سڑک کے آگے پیچھے نظر دوڑائی اور پھر دوڑنا شروع کر دیا۔ جنگل کو تھام کر دوڑتی چلی گئی۔
تصویریں اُس کے سینے میں بھینچی ہوئی تھیں۔ پھولی ہوئی سانسوں کے درمیان سیڑھیاں پھلانگتے ہوئے۔ فلیٹ تک آئی۔ کانپتے ہاتھوں سے چابی لگا کر گھمائی۔ کلک کی آواز کے ساتھ ہی وہ دروازہ دھکیل کر اندر داخل ہوئی۔ تب ہی وہاں پر کسی کی موجودگی کا احساس ہوا۔
ہال کی بتی بجھی ہوئی تھی۔ مگر سیٹنگ روم سے ٹی وی کی آواز آ رہی تھی۔
۔
۔
۔
“کیا نوال اس پراسرار شخص کو پہچان پائے گی؟ کیا وہ تصاویر اس کی زندگی بدل دیں گی؟ جاننے کے لیے ناول کا مکمل مطالعہ کریں۔”
۔
۔
“To read the complete novel for free, click the download button below and enjoy this story full of emotions, suspense, and romance.”
Click Here 👇🏻👇🏻
Author’s Official Page/Support
“اگر آپ کو یہ ناول پسند آیا، تو براہِ کرم مصنف کی محنت کی حوصلہ افزائی کے لیے ان کے آفیشل پیج کو ضرور وزٹ کریں:
Note:
“This file is provided for promotional purposes only. The original copyright belongs to the respective author. We highly encourage our readers to support the writers by following their official platforms.”






