
”ایک ایسی زندگی جو صرف ایک رپورٹ کی محتاج ہو کر رہ گئی ہے! آٹھ سالوں کی رفاقت، محبت کے دعوے اور گھر کی چاردیواری میں پنپتا طنز و تعصب؛ وفا کی زندگی اس وقت ایک ایسے دہانے پر کھڑی ہے جہاں ہر قدم پر ساس کی تلخ زبان اور معاشرتی دباؤ اس کا گلا گھونٹ رہا ہے۔ اولاد کی امید کا لمحاتی سا کھلنا اور پھر ڈاکٹر کے ایک جملے سے اس کا ہمیشہ کے لیے مرجھا جانا، صرف ایک طبی حقیقت نہیں بلکہ وفا کی ان تھک کوششوں کی شکست ہے۔ صبیحہ بیگم کی انا اور دوسری شادی کا مطالبہ کیا وفا کے لیے اس گھر میں مزید جگہ چھوڑے گا، یا شہاب کی حمایت بھی اس طوفان کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوگی؟ ایک ایسی کشمکش، جہاں ہر لمحہ ایک نئے امتحان کا نام ہے۔”
Summary:
”Eight years of marriage, yet Wafa’s worth is still measured by a medical report. Caught in the suffocating web of her mother-in-law’s relentless taunts and the societal stigma surrounding infertility, Wafa faces her darkest hour. The brief flicker of hope, ignited by a false alarm, is brutally extinguished, leaving her shattered under the weight of expectations. While Shahab attempts to shield her, Sabiha Begum’s demand for a second marriage threatens to tear their world apart. Can a relationship survive when the house itself becomes a prison of criticism? Dive into this gripping chapter of familial conflict, emotional turmoil, and the agonizing fight for dignity.”
“Welcome to Completenovelzone.com. Our goal is to share the best Urdu novels with you. We don’t just promote stories; we help you find the most emotional and beautiful Urdu romantic novels and social stories. We want to connect you with great writers so you can enjoy the best Urdu reading experience. If you love reading heart-touching stories, you are at the right place to find the best Urdu novels to read online.”
About The Novel:
English
”She stood before the mirror, adorning her slender wrists with shimmering silver bangles. She was draped in a black saree that clung to her petite frame, making her look nothing less than a vision. Her long hair was tied in a bun, with a few stray locks dancing gracefully around her face.
’Are you ready, Wafa?’ Shahab asked as he entered the room, but the moment his eyes landed on her, he was left speechless, instinctively murmuring, ‘Mashallah.’
’Yes, I’m ready,’ she said, showing him her finished look as she adjusted her bangles.
’My goodness, you’re going to be the death of me today,’ Shahab whispered, his voice thick with admiration as he stepped closer. She playfully pushed him away.
’Shahab, we’re getting late. Let’s go,’ she said, feigning annoyance as she reached for her sandals. Shahab smiled, grabbed his car keys and wallet from the table, and headed toward the door. ‘I’ll wait outside. Behroze is waiting for us,’ he called out, leaving the room.
It was Sunday, and Behroze’s engagement ceremony was today. Wafa had been reluctant to attend, but she had eventually given in to Shahab’s insistence. Sabiha Begum had flatly refused to join them, unable to bear the social pressure of answering questions about why her son still didn’t have any children.
After a thirty-minute drive, they reached the meeting point Behroze had suggested. Shahab pulled the car over, stepped out, and walked a short distance away to get a better signal to call Behroze. He had no idea that a bike carrying three masked men had pulled up right next to his car. The area was desolate, and the dead of night made the presence of these strangers deeply ominous. The men banged on the car window, and Wafa panicked, seeing the cloth wrapped around their faces.
’Get out of the car!’ one of them shouted aggressively. Wafa’s forehead broke out in a cold sweat. She looked toward Shahab, whose back was turned as he was completely occupied with his call.
’Shahab! Shahab!’ she cried out in terror. Hearing her scream, one of the men pulled a gun from his pocket and pressed it against the car window. ‘Get out quietly, or I’ll blow your brains out!’ Frozen by the sight of the weapon, Wafa stepped out, seeing no other choice. The men leered at her with filthy gazes.
’Give us all your jewelry,’ the man demanded. Wafa looked at them in sheer horror and turned toward Shahab, screaming for help at the top of her lungs. Shahab turned around, his heart stopping as he saw his wife surrounded. Behroze, who was nearby, also rushed toward them.
Suddenly, shots rang out. Three or four bullets pierced Wafa’s chest. She collapsed to the ground, soaked in her own blood, as the men fled the scene. Shahab’s legs gave out; he couldn’t take a single step forward. Behroze, letting out a gut-wrenching scream, dashed forward and scooped Wafa into his arms, oblivious to her husband standing nearby. His only priority was her life. His white shirt turned crimson as he carried her to his car and sped toward the hospital. Shahab, his mind completely numbed, followed in his own vehicle. Minutes later, a blood-drenched Wafa was rushed into the city’s largest hospital, struggling between life and death in the operating theatre.”
اُردو
وہ آئینے کے سامنے کھڑی اپنی مومی کلائیوں میں سلور کی چمکتی ہوئی چوڑیاں پہن رہی تھی ،اس نے سیاہ رنگ کی ساڑھی پہنی ہوئی تھی جو اس کے دبلے پتلے سراپے پر قیامت ڈھارہی تھی۔لمبے بالوں کو اس نے جوڑے میں قید کیا ہوا جس کی کچھ لٹیں اس کے چہرے رقص کررہی تھیں
وفا تیار ہوگئیں ؟ شہاب کمرے میں آتے اس سے پوچھنے لگا لیکن جیسے ہی نظر اس کے چار چاند لگے وجود پر پڑی تو نظروں نے بے ساختہ ہی ماشااللہ کہہ ڈالا۔
جی ہوگئی تیار ،وفا نے ہاتھوں میں چوڑیاں ڈال کر سیدھے ہوتے اسے اپنی تیاری دکھائی تھی۔
اف محترمہ آپ تو گھائل کررہی ہیں آج ہمیں ،شہاب اس کے قریب آتا خمار سے بولا تو اس نے شہاب کو خود سے پرے دھکیل دیا۔
شہاب دیر ہورہی ہے چلیں ،وہ مصنوعی خفگی دکھاتی سینڈل پہننے لگی تو شہاب اس کی بات سن مسکراکے ٹیبل پر سے گاڑی کی چابی اور والٹ اٹھانے لگا۔
میں باہر ویٹ کررہا ہوں آجائو بہروز ہمارا ویٹ کررہا ہوگا۔اس نے کمرے سے نکلتے ہوئے رک کر وفا کو مخاطب کیا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا کمرے سے نکل گیا اس کی بات سن وفا جلدی جلدی سے سینڈل پہننے لگی۔
آج اتوار تھا اور بہروز کی انگیجمنٹ تھی جہاں وفا اور شہاب کو لازمی جانا تھا۔ویسے تو وفا وہاں جانے کے لئے راضی نہیں تھی لیکن شہاب کی ضد کے آگے اسے ہتھیار ڈالنے پڑے تھے پھر بہروز نے بھی صبح شہاب کو فون کرکے یاد دلایا تھا کہ آج ان دونوں کو لازمی آنا ہے۔ان دونوں نے صبیحہ بیگم کو بھی ساتھ چلنے کا کہا تھا مگر انہوں نے صاف انکار کردیا تھا کہ وہ دنیا کے سامنے اپنی بہو کے ساتھ نہیں جاسکتیں آگر لوگوں نے ان سے پوچھ لیا کہ ان کے بیٹے کی شادی کو کتنا عرصہ ہوگیا اور ان کے کتنے پوتا پوتی ہیں تو وہ کیا جواب دیتیں۔
چند ثانیوں بعد شہاب اور وفا بہروز کی طرف جانے کے لئے نکل پڑے تھے۔بہروز کا گھر کافی دور تھا اس لئے بہروز نے شہاب سے یہی کہا تھا کہ وہ فلاح جگہ پر آکے ان دونوں کو پک کرلے گا۔تقریباآدھے گھنٹے کے سفر کے بعد وہ دونوں اس مقام پر پہنچ گئے تھے جہاں بہروز نے آنا تھا۔شہاب نے سڑک کے کنارے گاڑی کھڑی کی اور گاڑی سے باہر نکل کر بہروز کو کال ملانے لگا۔سگنل ویک تھے اس لئے وہ گاڑی سے تھوڑا دور جاکے بار بار بہروز کا نمبر ڈائل کررہا تھا اسے پتا ہی نہیں تھا کہ پیچھے اس کی گاڑی کے پاس ایک بائیک آکے رکی تھی جس پر تین لڑکے سوار تھے۔یہ جگہ کافی سنسان تھی اور رات کے اس پہر ہو کا عالم تھا ایسے میں نقاب پوشوں کو ان کی گاڑی کے پاس رکنا بالکل خطرے سے خالی نہیں تھا۔ان لڑکوں نے گاڑی کا شیشہ بجایا تو وفا ان کم عمر نوجوانوں کو دیکھ ہڑبڑاگئی جو چہرے پر کپڑا لپیٹے ہوئے تھے۔
باہر نکل گاڑی سے ؟ گاڑی کا شیشہ زور زور سے بجاتے ایک لڑکے نے برہمی سے کہا تو وفا کے ماتھے پر پسینہ نمودار ہوگیا اسے دور کھڑے شہاب کی پشت نظر آرہی تھی جو ہر چیز سے بیگانہ ہوتا بہروز کو کال ملانے میں مصروف تھے۔
شہاب !! شہاب!! وہ ڈر کے مارے شہاب کو پکارنے لگی تھی جب اس کی بات سن ایک لڑکے نے خبردار ہوتے اپنی جیب میں سے گن نکالی اور گاڑی کے شیشے پر رکھ دی۔
چپ چاپ باہر نکل ورنہ بھیجے میں گولیاں اتاردوں گا۔بندوق دیکھ کر تو اس کی اوپر کی سانسیں اوپر اور نیچے کی سانسیں نیچے ہی رہ گئی تھیں اس نے گاڑی سے باہر نکلنے میں ہی عافیت جانی تھی کیونکہ گاڑی میں بیٹھ کر تو شہاب تک اس کی آواز ہی نہیں جارہی تھی۔وہ خدا کا نام لے کر گاڑی سے باہر نکل آئی تو وہ لڑکے غلیظ نظروں سے سامنے کھڑے حسن کے مجسمے کو دیکھنے لگے۔
زیور اتار اپنا سارا۔لڑکے نے پھر سے اسے مخاطب کیا تو وہ خوف سے انہیں دیکھنے لگی اور پھر اپنا رخ شہاب کی جانب کرکے زور زور سے اسے پکارنے لگی۔
شہاب بہروز سے بات کرکے پلٹا تو دیکھا کچھ لڑکے وفا کو گھیرے کھڑے تھے اور وفا اسی کو پکار رہی تھی۔بہروز بس تھوڑا ہی دور تھا وہ یہاں پہنچنے ہی والا تھا۔
وفا!! شہاب ہڑبڑاکے آگے بڑھا تھا جب ان لڑکوں نے تین چار گولیاں وفا کے سینے میں اتار دی تھیں۔وفا خون میں لت پت زمین بوس ہوگئی تھی جب کہ وہ لڑکے موقع دیکھتے ہی فرار ہوگئے تھے۔یہ منظر دیکھ شہاب کی تو ٹانگیں شل رہ گئی تھیں وہ ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھا پارہا تھا۔
وفا!! بہروز کی حلق پھاڑ چیخ ماحول میں سنائی دی تو شہاب نے بھی زبردستی اپنے قدم وفا کی جانب بڑھائے تھے۔وفا کی حالت دیکھ بہروز دیوانوں کی طرح بھاگ کر اس کے پاس گیا اور اسے بانہوں میں اٹھالیا۔اس وقت وہ یہ بھی بھول گیا تھا کہ اس کا شوہر بالکل سامنے کھڑا تھا۔اس وقت اسے وفا کی جان سے بڑھ کر کوئی چیز پیاری نہیں لگی تھی۔اس کی سفید شرٹ وفا کے خون سے رنگ گئی تھی۔اس نے وفا کو اٹھاکے گاڑی میں ڈالا اور خود بھی گاڑی میں بیٹھ کر ہوسپٹل کے لئے روانہ ہوگیا۔شہاب کا دماغ بھی بالکل مائوف ہوگیا تھا وہ بھی گاڑی میں جا بیٹھا اور گاڑی بہروز کی گاڑی کے پیچھے لے جانے لگا۔کچھ ہی دیر بعد خون میں لت پت ایک لڑکی اسٹریچر پر پڑی زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا شہر کے سب سے بڑے ہوسپٹل کے آپریشن تھیٹر میں لے کے جائی جارہی تھی۔
۔
۔
۔
””کیا یہ حملہ محض ایک ڈکیتی کی واردات تھی، یا اس کے پیچھے کسی کی گہری سازش کارفرما ہے جو وفا کو اس دنیا سے مٹا دینا چاہتا تھا؟ اور اس نازک صورتحال میں، وفا کا خون سے لت پت ہونا کیا شہاب اور بہروز کے درمیان کسی نئے رشتے یا تلخی کی بنیاد بنے گا؟ کیا وفا موت کے منہ سے واپس آ سکے گی؟”
۔
۔
“To read the complete novel for free, click the download button below and enjoy this story full of emotions, suspense, and romance.”
Click Here 👇🏻👇🏻
Author’s Official Page/Support
Note:
“This file is provided for promotional purposes only. The original copyright belongs to the respective author. We highly encourage our readers to support the writers by following their official platforms.”






